ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے

Faheem Amrohvi

ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دے

گویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دے

لوگو تمہارا شہر تو شیشے کا شہر ہے

پھر بھی ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دے

مدت سے میرے گاؤں کے چولھے بھی سرد ہیں

لیکن اک آگ ہے کہ جو گھر گھر دکھائی دے

یہ کیا کہ میرے فکر و عمل میں تضاد ہے

مجھ کو تو کوئی میرے ہی اندر دکھائی دے

یہ راستہ نیا ہے ذرا غور تو کرو

شاید یہیں کہیں پہ مرا گھر دکھائی دے