دن تو جوں توں چلو گزر جائے
Faheem Amrohviدن تو جوں توں چلو گزر جائے
نگھرا رات میں کدھر جائے
یہ سڑک پر پڑا ہوا اک شخص
اس کے سینے سے کار اتر جائے
گھر سے پاؤں نکل گیا اس کا
اب خدا جانے وہ کدھر جائے
اس زمانے میں زندگی کے لئے
سوچ بھی لے کوئی تو مر جائے
رات کی فکر تو کروں لیکن
سر سے یہ دھوپ تو اتر جائے
آئنہ منہ چڑا رہا ہے مجھے
خود کو جو دیکھ لے تو ڈر جائے
انتشار حیات اف جیسے
آئینہ ٹوٹ کر بکھر جائے