برسر روزگار تھے پہلے
Faheem Amrohviبرسر روزگار تھے پہلے
ہم بھی یاروں کے یار تھے پہلے
آج یہ زیست ہم پہ بار سہی
زیست پر ہم بھی بار تھے پہلے
آج ہم وقت کو پکارتے ہیں
وقت کی ہم پکار تھے پہلے
آؤ اب ان کی چھاؤں بھی ڈھونڈیں
جو شجر سایہ دار تھے پہلے
گو کہ خوشیاں ہیں بے شمار مگر
غم بہت خوش گوار تھے پہلے