کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہے
Habeeb Saifiکبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہے
ہمیں اپنے بزرگوں کی شرافت یاد آتی ہے
کسی بھی معصیت سے میں ہمیشہ دور رہتا ہوں
کہ ہر لمحہ مجھے ماں کی نصیحت یاد آتی ہے
ہر اک در بند کرتا ہوں کہ شب تو چین سے گزرے
تو جب پہلو میں ہوتا تھا وہ ساعت یاد آتی ہے
کبھی اوراق ماضی کے پلٹ لیتا ہوں فرصت میں
تری بیکار باتوں کی بھی حجت یاد آتی ہے
ملی دولت جو دنیا کی بڑھیں بیزاریاں دل کی
سکوں سے جس میں رہتے تھے وہ غربت یاد آتی ہے
طبیعت پھر سے اپنی ڈھونڈھتی ہے ذائقہ سیفیؔ
حسیں دل کش اداؤں کی بھی لذت یاد آتی ہے