کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا
Habeeb Saifiکبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھا
ترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھا
بتاؤں کیا گزرتی ہے مرے بچوں کے ذہنوں پر
ہوئی مدت تلاش رزق میں گھر ہی نہیں دیکھا
میں آئینہ سدا رکھتا ہوں مستقبل کے منظر کا
کبھی ماضی کی جانب میں نے مڑ کر ہی نہیں دیکھا
نہ ساحل پر نہ کشتی پر کوئی تہمت رکھی میں نے
تھا ڈر دل میں تلاطم کا سمندر ہی نہیں دیکھا
کمی شاید ہے قسمت کی کہ آنکھوں نے مری اب تک
جسے الماس کہتے ہیں وہ پتھر ہی نہیں دیکھا