Poetry

Poet
Meter
  1. فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہےنقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہےاختر علی اختر
  2. خواب آسودگی سنہرا ہےزندگی پر تو سخت پہرا ہےاختر علی اختر
  3. زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفایعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھاختر علی اختر
  4. آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیادشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیاانوری جہاں بیگم حجاب
  5. سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہےکیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہےانوری جہاں بیگم حجاب
  6. کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونالبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہوناانوری جہاں بیگم حجاب
  7. کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیاہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیاانوری جہاں بیگم حجاب
  8. محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمدخدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمدانوری جہاں بیگم حجاب
  9. مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینالگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دیناانوری جہاں بیگم حجاب
  10. وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیںتو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیںانوری جہاں بیگم حجاب
  11. عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمالجلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کرانوری جہاں بیگم حجاب
  12. پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلباب نکل جائے گا مرا مطلببشیر الدین احمد دہلوی
  13. جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپنہیں معلوم کب ملیں گے آپبشیر الدین احمد دہلوی
  14. چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیایہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیابشیر الدین احمد دہلوی
  15. ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہےدل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
  16. کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہےنکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
  17. لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھکاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھبشیر الدین احمد دہلوی
  18. ہے دنیا میں زباں میری اگر بندمگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بندبشیر الدین احمد دہلوی
  19. وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میریکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کربشیر الدین احمد دہلوی
  20. افق سایہ سفر دھوکا قدم کرتببس اک ٹھوکر ہے اور یہ گرد زار شبChandra Parkash Shad
  21. بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھاہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھاChandra Parkash Shad
  22. پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنےسب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنےChandra Parkash Shad
  23. دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائےزینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائےChandra Parkash Shad
  24. سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائےکہاں تک جانے گرد گم رہی جائےChandra Parkash Shad
  25. کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیاہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیاChandra Parkash Shad
  26. کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہمشاخ سے جیسے پھل ٹوٹے کچھ یوں لہرائے ہمChandra Parkash Shad
  27. ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنیاور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنیChandra Parkash Shad
  28. ان کے ملنے کا بظاہر تو یقیں کوئی نہیںوہ اگر چاہیں کوئی شک ہے نہیں کوئی نہیںDamodar Thakur Zaki
  29. بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکاتری نظر میں مرا پیار پیار ہو نہ سکاDamodar Thakur Zaki
  30. عالم سجدہ ہے میرا ایک عالم نور کاسجدہ گہ پر میری دھوکا ہو رہا ہے طور کاDamodar Thakur Zaki
  31. لے لیا وعدہ ان کے آنے کااب مقدر غریب خانے کاDamodar Thakur Zaki
  32. نظر بن کر تجلی جلوہ گر ہےجہاں بے ساختہ سجدے میں سر ہےDamodar Thakur Zaki
  33. نقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہماکثر گزر گئے ہیں تری رہ گزر سے ہمDamodar Thakur Zaki
  34. وہ سامنے ہوں اور نظر کو خبر نہ ہوبرباد اس قدر بھی شعور نظر نہ ہوDamodar Thakur Zaki
  35. ہم رنگ و ہم خیال مرا دل نہیں رہامیں دل کے اور دل مرے قابل نہیں رہاDamodar Thakur Zaki
  36. اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سےروشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سےDeedar Bastawi
  37. ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیامال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیاDeedar Bastawi
  38. دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیںاب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیںDeedar Bastawi
  39. رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کرمیرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کرDeedar Bastawi
  40. شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیںاس روز قیامت سے پہلے اک اور قیامت ٹھیک نہیںDeedar Bastawi
  41. مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئےہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئےDeedar Bastawi
  42. ندی پہاڑ سمندر چٹان کچھ بھی نہیںجواں ہو عزم تو پھر آسمان کچھ بھی نہیںDeedar Bastawi
  43. ہمارے زخم کا بھرنا بہت ضروری ہےاب اقتدار میں حصہ بہت ضروری ہےDeedar Bastawi
  44. ان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروںہر دم انہیں کی یاد ستائے تو کیا کروںEhsan Akhtar Ghazipuri
  45. ان کے ہونٹوں پہ کیوں ہنسی کم ہےکیا مری آنکھ میں نمی کم ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
  46. پینے پہ لگا کر پابندی دشنام کی باتیں کرتے ہیںیہ زاہد و عابد مسجد میں خود جام کی باتیں کرتے ہیںEhsan Akhtar Ghazipuri
  47. جب لڑکپن شباب تک پہنچامنزل آفتاب تک پہنچاEhsan Akhtar Ghazipuri
  48. چشم ساقی اگر سلامت ہےساغر و مے کی کیا ضرورت ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
  49. غنچہ و گل کی جستجو نہ رہیدل میں اب کوئی آرزو نہ رہیEhsan Akhtar Ghazipuri
  50. قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہےخدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہےEhsan Akhtar Ghazipuri