Poetry
Poet
Meter
- فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہےنقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہےاختر علی اختر
- خواب آسودگی سنہرا ہےزندگی پر تو سخت پہرا ہےاختر علی اختر
- زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفایعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھاختر علی اختر
- آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیادشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہےکیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہےانوری جہاں بیگم حجاب
- کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونالبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہوناانوری جہاں بیگم حجاب
- کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیاہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمدخدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمدانوری جہاں بیگم حجاب
- مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینالگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دیناانوری جہاں بیگم حجاب
- وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیںتو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیںانوری جہاں بیگم حجاب
- عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمالجلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کرانوری جہاں بیگم حجاب
- پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلباب نکل جائے گا مرا مطلببشیر الدین احمد دہلوی
- جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپنہیں معلوم کب ملیں گے آپبشیر الدین احمد دہلوی
- چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیایہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیابشیر الدین احمد دہلوی
- ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہےدل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہےنکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھکاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھبشیر الدین احمد دہلوی
- ہے دنیا میں زباں میری اگر بندمگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بندبشیر الدین احمد دہلوی
- وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میریکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کربشیر الدین احمد دہلوی
- افق سایہ سفر دھوکا قدم کرتببس اک ٹھوکر ہے اور یہ گرد زار شبChandra Parkash Shad
- بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھاہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھاChandra Parkash Shad
- پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنےسب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنےChandra Parkash Shad
- دل سے اک آگ کی دیوار ابھرتی جائےزینہ زینہ شب تنہائی اترتی جائےChandra Parkash Shad
- سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائےکہاں تک جانے گرد گم رہی جائےChandra Parkash Shad
- کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیاہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیاChandra Parkash Shad
- کیسا وہ موسم تھا یہ تو سمجھ نہ پائے ہمشاخ سے جیسے پھل ٹوٹے کچھ یوں لہرائے ہمChandra Parkash Shad
- ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنیاور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنیChandra Parkash Shad
- ان کے ملنے کا بظاہر تو یقیں کوئی نہیںوہ اگر چاہیں کوئی شک ہے نہیں کوئی نہیںDamodar Thakur Zaki
- بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکاتری نظر میں مرا پیار پیار ہو نہ سکاDamodar Thakur Zaki
- عالم سجدہ ہے میرا ایک عالم نور کاسجدہ گہ پر میری دھوکا ہو رہا ہے طور کاDamodar Thakur Zaki
- لے لیا وعدہ ان کے آنے کااب مقدر غریب خانے کاDamodar Thakur Zaki
- نظر بن کر تجلی جلوہ گر ہےجہاں بے ساختہ سجدے میں سر ہےDamodar Thakur Zaki
- نقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہماکثر گزر گئے ہیں تری رہ گزر سے ہمDamodar Thakur Zaki
- وہ سامنے ہوں اور نظر کو خبر نہ ہوبرباد اس قدر بھی شعور نظر نہ ہوDamodar Thakur Zaki
- ہم رنگ و ہم خیال مرا دل نہیں رہامیں دل کے اور دل مرے قابل نہیں رہاDamodar Thakur Zaki
- اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سےروشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سےDeedar Bastawi
- ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیامال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیاDeedar Bastawi
- دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیںاب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیںDeedar Bastawi
- رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کرمیرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کرDeedar Bastawi
- شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیںاس روز قیامت سے پہلے اک اور قیامت ٹھیک نہیںDeedar Bastawi
- مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئےہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئےDeedar Bastawi
- ندی پہاڑ سمندر چٹان کچھ بھی نہیںجواں ہو عزم تو پھر آسمان کچھ بھی نہیںDeedar Bastawi
- ہمارے زخم کا بھرنا بہت ضروری ہےاب اقتدار میں حصہ بہت ضروری ہےDeedar Bastawi
- ان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروںہر دم انہیں کی یاد ستائے تو کیا کروںEhsan Akhtar Ghazipuri
- ان کے ہونٹوں پہ کیوں ہنسی کم ہےکیا مری آنکھ میں نمی کم ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- پینے پہ لگا کر پابندی دشنام کی باتیں کرتے ہیںیہ زاہد و عابد مسجد میں خود جام کی باتیں کرتے ہیںEhsan Akhtar Ghazipuri
- جب لڑکپن شباب تک پہنچامنزل آفتاب تک پہنچاEhsan Akhtar Ghazipuri
- چشم ساقی اگر سلامت ہےساغر و مے کی کیا ضرورت ہےEhsan Akhtar Ghazipuri
- غنچہ و گل کی جستجو نہ رہیدل میں اب کوئی آرزو نہ رہیEhsan Akhtar Ghazipuri
- قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہےخدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہےEhsan Akhtar Ghazipuri