کہیں بھی جاؤں پر مجھ کو سکون دل نہیں ملتا

Gham Bijnori

کہیں بھی جاؤں پر مجھ کو سکون دل نہیں ملتا

نہیں ملتا مجھے وہ نقشۂ قاتل نہیں ملتا

مددگار محبت تھے تمہیں بحر محبت میں

تمہارے بعد کوئی رہبر کامل نہیں ملتا

تمہارا ہی بھروسہ تھا مجھے دشوار راہوں میں

اب ان راہوں میں کوئی رہرو منزل نہیں ملتا

سوال زندگی مشکل ہے پر مشکل نہیں مشکل

اگر مشکل ہے مشکل کو حل مشکل نہیں ملتا

حجابانہ ہی صورت سے تمہاری میں سنبھل لیتا

مگر مشکل ہے مشکل کو لب ساحل نہیں ملتا

ہمارا راز دل ہی کیا نہ سنتے ہو نہ پوچھو گے

نہیں ملتا تمہارا ہی مزاج دل نہیں ملتا

مقدر کو ترے منظور کچھ غمؔ ہے تو یہ ہی ہے

کہ تجھ سا اس زمانے میں کوئی بیدل نہیں ملتا