نمود صبح پر یوں اعتبار شام آتا ہے
Habeeb Ahmad Anjum Datiaviنمود صبح پر یوں اعتبار شام آتا ہے
کہ جیسے بعد فصل گل خزاں کا نام آتا ہے
تبسم بھی ہیں آنسو بھی ہیں ان کی بزم میں لیکن
وہی ہے کامیاب عشق جو ناکام آتا ہے
لگا لیں کیوں نہ ان کے درد کو شام الم دل سے
وہی ہمدم ہے اپنا وقت پر جو کام آتا ہے
نہ قسمت ساتھ دیتی ہے نہ دل ہی ساتھ دیتا ہے
کسی کے آستاں سے جب کوئی ناکام آتا ہے
سناتا ہے کسی کو کوئی جب پر درد افسانہ
نہ جانے کیوں مرے لب پر تمہارا نام آتا ہے
کسی کی بے رخی سے ترک الفت کر تو دوں لیکن
وفاؤں پر مری انجمؔ بڑا الزام آتا ہے