مرا یہ جذبۂ دل کم نہیں ہے

Gham Bijnori

مرا یہ جذبۂ دل کم نہیں ہے

مری حسرت میں اب تک خم نہیں ہے

بلا سے حسن مانے یہ نہ مانے

اڑان اب عشق کی بھی کم نہیں ہے

ہمارے دل میں اب تک ہے تسلی

کہ وہ اپنا ہے اور برہم نہیں ہے

مجھے اکثر وہ کہہ دیتے ہیں پاگل

یہ میرے ہوش کا عالم نہیں ہے

شب غم رات بھر رویا تو بولے

ابھی تو آنکھ بھی پر نم نہیں ہے

میں منزل کی طرف بڑھتا رہوں گا

مجھے ناکامیوں کا غم نہیں ہے

چراغ ہستیٔ غم جل رہا ہے

ابھی تک روشنی مدھم نہیں ہے