لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں

Habeeb Saifi

لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیں

ملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیں

ہے چہرے پہ میرے ہر اک حرف کندہ

مرے آنسوؤں کی بھی تحریر دیکھیں

ہوئے رائیگاں اپنے اعمال سارے

نہ لائی اثر کوئی تدبیر دیکھیں

اسی کشمکش میں شب و روز گزرے

کوئی خواب دیکھیں کہ تعبیر دیکھیں

سنا ہے وہاں امن کے گل کھلے ہیں

چلو چل کے وادئ کشمیر دیکھیں

مری ماں کا کہنا ہوا سچ اے سیفیؔ

دعاؤں سے بدلی ہے تقدیر دیکھیں