ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا

Habeeb Saifi

ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہرا

جو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرا کتاب ٹھہرا

سنا تھا کانوں سے جو بھی اس نے وہ سب حقیقت

ہماری آنکھوں نے جو بھی دیکھا وہ خواب ٹھہرا

اکٹھا زر کر لیا ہے اس نے بھی اپنے گھر میں

رذیل جتنا تھا اتنا عزت مآب ٹھہرا

سنا ہے میں نے وہ شخص بھی بن گیا ہے اچھا

ملوں گا کیسے کہ میں تو آخر خراب ٹھہرا

غریب ہر کوئی ناچتا ہے انہیں کی دھن پر

یہ دست اہل عرب میں کیسا رباب ٹھہرا

کیا ہے احسان موت نے دی نجات مجھ کو

شکایتوں کا بھی ختم سیفیؔ لو باب ٹھہرا