نہ حرم کی مجھ کو ہے جستجو نہ تو رہ گزر کی تلاش ہے

Ehsan Akhtar Ghazipuri

نہ حرم کی مجھ کو ہے جستجو نہ تو رہ گزر کی تلاش ہے

جہاں سر جھکا کے ملے سکوں اسی سنگ در کی تلاش ہے

مجھے بھیجنا ہے پیام دل مگر ایک شرط بھی ہے مری

جو یہ راز راز ہی رکھ سکے اسی نامہ بر کی تلاش ہے

جو تو بن سکے مرا آسرا تو یہ ہوگا مجھ پہ کرم ترا

مجھے شاہ راہ حیات میں کسی ہم سفر کی تلاش ہے

ملے ایسا بادۂ سر خوشی جو نہ ختم ہو کبھی بے خودی

جو سنوار دے میری زندگی اسی اک نظر کی تلاش ہے

یہی زندگی کی ادا بھی ہے مری کائنات وفا بھی ہے

ترے غم پہ ناز ہے اس لئے کہ یہ عمر بھر کی تلاش ہے

نہ دوا دعا سے غرض مجھے نہ تو جام و مے کی طلب مجھے

جو علاج درد جگر کرے اسی چارہ گر کی تلاش ہے

کوئی کہہ دے اخترؔ ناتواں کہ قفس میں ہے مرا آشیاں

جو چمک رہی ہیں یہ بجلیاں انہیں میرے گھر کی تلاش ہے