ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں

Faheem Amrohvi

ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاں

بات وہ ہے جو ان کہی ہے میاں

اپنی سانسیں بھی اپنے بس میں نہیں

زندگی خاک زندگی ہے میاں

جس کے تن پر لباس تک بھی نہیں

وہ بھی کیا کوئی آدمی ہے میاں

میرے الفاظ لکھ کے تم رکھ لو

ابھی آواز دب رہی ہے میاں

تم نہیں بولتے تو یوں ہی سہی

ہم نے بھی چپ کی سادھ لی ہے میاں