کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتے

سید ہمایوں میرزا حقیر

کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتے

جب تلک دم نہ نکلتا اسے دیکھا کرتے

درد دوری کا بجز مرگ نہیں کوئی علاج

ایسے بیمار کی ہم کوئی دوا کیا کرتے

ایسے بھولے کہ کبھی پھر کے نہ پوچھا تم نے

کچھ تو اے راحت جاں پاس وفا کا کرتے

جور سب ہم نے سہے جتنے کیے گردوں نے

دوریٔ یار کو کس طرح گوارہ کرتے

چشم مخمور سے بے خود جو نہ ہو جاتے ہم

دل کو آتش کدہ اور چشم کو دریا کرتے

کر کے بسمل جو ہمیں چھوڑ دیا قاتل نے

ہم تڑپتے کہ اسے دیکھتے کیا کیا کرتے

وہ عیادت کو حقیرؔ آپ کی آتے جو کبھی

کرتے احسان اگر آپ کو اچھا کرتے