بہت ٹوٹا ہوں لیکن حوصلہ زندہ بہت کچھ ہے
Vali Madniبہت ٹوٹا ہوں لیکن حوصلہ زندہ بہت کچھ ہے
مرے اندر ابھی ایثار کا جذبہ بہت کچھ ہے
عطا کی ہے اسی نے زندگی کو کرب کی دولت
مگر اس میں مرے دل کا بھی سرمایہ بہت کچھ ہے
بچاتا ہے کہاں یہ دوپہر کی دھوپ سے ہم کو
یوں کہنے کو یہاں دیوار کا سایہ بہت کچھ ہے
محبت کا جسے آسیب کہتے ہیں جہاں والے
مرے دل پر اسی آسیب کا سایہ بہت کچھ ہے
وہ آیا ہے نہ آئے گا بجھا دے یاد کی شمعیں
دل ناداں کو تنہائی میں سمجھایا بہت کچھ ہے
کوئی دو گھونٹ پی کر جی تو سکتا ہے ولیؔ لیکن
کسی دریا سے تشنہ لب گزر جانا بہت کچھ ہے