دنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانک
Qamar Jahan Naseerدنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانک
میری نظر پڑی تو دیکھا کہ
زندگی کی ہتھیلی سے ساری لکیریں غائب ہو گئی ہیں
سوائے ایک لکیر کے
نہ چھوٹی لکیریں نہ بڑی
نہ مدھم نہ گہری
نہ مدور اور نہ مستقیم
نہ دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر بنتا کوئی چاند
نہ ان لکیروں کی اوٹ سے جھانکتا کسی سوہنی کا چہرہ
اور نہ ہی ان میں الجھتا کسی مہیوال کا دل
یہ کیسی ہتھیلی ہے
بالکل سپاٹ
بے رنگ
تتلیوں کا کوئی رنگ نہیں ان پہ
اور یک لخت
اور زندگی
زندگی کے اداس چہرے پہ میں نے املتاس کی زردی اترتے دیکھی
ناکردہ جرم کے بوجھ تلے سر جھکائے نظریں چراتی ہوئی
دبے پاؤں کھسکنے کی تیاری کرتی ہوئی
اس کی آنکھوں کی چمک لمحہ بہ لمحہ پھیکی پڑتی جا رہی تھی
اور تب میں نے ساری قوتیں جمع کر کے بلیک مارکر اٹھایا