تن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانی
Qamar Jahan Naseerتن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانی
کہیں پر لاجوردی سرمئی اور نقرئی زیور
طلائی نگ جڑے ہیں جابجا جن میں
ہتھیلی قرمزی رنگت
کہیں پر سلسلہ در سلسلہ کہسار
کھڑے ہیں سر اٹھائے ایک شان بے نیازی سے
کہیں آغوش میں چشمے
چھپا ہے زندگی کا راز جن میں
خطوط دل ربا ایسے
کہ سیار و ثوابت کی حدوں کو ناپتا رہرو
بھی رستہ بھول بیٹھے دم بخود ہو کر
نگہ اٹھی ذرا ٹھٹھکی نگاہ شوق میں بدلی
پلٹنے سے ہوئی منکر
چلو آوارہ گردی ترک کرتے ہیں
یہیں پر خیمہ زن ہو کر
کسی کے چشم و ابرو پر
متاع جاں یہ فانی زیست ہم قربان کرتے ہیں
مگر کچھ پل ہی گزرے اور وہ زیرک نگاہیں
توڑ کر وارفتگی کے سحر کو
و سخر کی نئی تعبیر میں مشغول ہیں اب