چونک کر اٹھ بیٹھتی کیوں ہیں
Qamar Jahan Naseerچونک کر اٹھ بیٹھتی کیوں ہیں
یہ آنکھیں نیند سے
ڈھونڈھتی ہیں پھر وہی مبہم سا پیکر
پتلیوں میں بند آنکھوں کی جو آ کر
بیٹھ جاتا ہے بہت ہی شوق سے
خواب یہ کیسا ہے دھندلایا ہوا
نقش عاری جس کے اپنی ساخت سے
آنکھ کے پردے پہ ابھرے
خواب میں جنمی ہوئی محدود خوابوں ہی تلک
کیا ہیولیٰ ہے اسی کا
جو مکمل ہو نہیں پائی کسی بھی سرزمیں پہ
ہر طرف پہرہ کڑا
سوچنے کی ساری قوت
اور بینائی ہماری
ان پہ کنڈلی مار کر
جھوٹی روایت کی چمک بیٹھی ہوئی
لپلپاتی ہے زباں
بین جاری یا کہ اک زخمی ہنسی ہونٹوں پہ ہے بکھری ہوئی
شش جہت ہے جشن میرا
اور میں ہی قید میں