ہو گئی سیر جہاں کنج جہاں تک آ گئے

V. Sudhakar Rao

ہو گئی سیر جہاں کنج جہاں تک آ گئے

اپنے گھر سے نکلے اپنے آشیاں تک آ گئے

پیکر فانی سے روح جاوداں تک آ گئے

تجھ تلک آ جائیں گے جب ہم یہاں تک آ گئے

زندگی بھر اک سراب تیز رو کے پیچھے ہم

جاتے جاتے ایک صحرائے رواں تک آ گئے

اک قدم آئے نہ آئے تو یہ تیری ہے رضا

ہم کو آنا تھا سو تیرے آستاں تک آ گئے

جانے کن عریانیوں پر ٹوٹ کر برسیں گے یہ

آج چند اشعار امڈ کر پھر زباں تک آ گئے