تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہے
سید ہمایوں میرزا حقیرتیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہے
یہ آباد گھر اب لٹا چاہتا ہے
مرا دل اب ان کا ہوا چاہتا ہے
یہ اپنا پرایا ہوا چاہتا ہے
عیادت کو آتا ہے رشک مسیحا
یہ بیمار اچھا ہوا چاہتا ہے
نہ لے جا مجھے اس کے کوچہ میں اے دل
تو ناحق کو رسوا ہوا چاہتا ہے
جو چھیڑا حقیرؔ ان کو میں نے تو بولے
تمہیں اب تو سودا ہوا چاہتا ہے