چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والے
سید ہمایوں میرزا حقیرچھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والے
جی سے جاتے ہیں ترے کوچہ سے جانے والے
آج وہ عیسی دوراں ہیں جلانے والے
ہم تڑپ کر ہیں لحد سے نکل آنے والے
میں بھی پیاسا ہوں مجھے کیوں نہیں کرتے سیراب
آپ شمشیر سے او پیاس بجھانے والے
نہ ہمیں دیر سے مطلب نہ حرم سے کچھ کام
ہم تو ہیں کوچۂ دل دار کے جانے والے
لو ہوئے خود بھی گرفتار محبت ناصح
آپ ہی بھولے جو تھے راہ بتانے والے
اپنی فریاد سے بیتاب نہ کر اے بلبل
تیرے نالے ہیں مرے ہوش اڑانے والے
رو ہی دیتا ہوں جو یاد آتا ہے لندن مجھ کو
کیا ہوئے اب وہ حسیں ناچنے گانے والے
دیکھ کے لاش حقیرؔ آپ کی بولا وہ شوخ
آج دنیا سے چلے ٹھوکریں کھانے والے