مٹتے ابھرتے چہروں کے دریا میں
V. Sudhakar Raoمٹتے ابھرتے چہروں کے دریا میں
بنتے بگڑتے رشتوں کے طوفان کے بیچ
ایک جزیرہ ہے کہ جہاں پر
خود کو ڈھونڈ نکالا میں نے
خود کو چہکتے دیکھا میں نے
خود کو مہکتے پایا میں نے
در نہ دریچہ
دیوار نہ چھت
مجھ سے ملنے آ سکتے ہو جب چاہو
پر یاد رہے
تم کو اپنا جسم اتار کے آنا ہوگا ساحل پر