دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہت

رنج حیدرآبادی

دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہت

روشن اس گھر میں ہیں چراغ بہت

میں نہ روؤں تو کیا کروں ساقی

بھر کے دیتا نہیں ایاغ بہت

شب کو وعدہ ہے ان کے آنے کا

کیوں نہ روشن کروں چراغ بہت

دل ویراں کو دیکھ کر بولے

گاؤں ہوتے ہیں بے چراغ بہت

غیر کو سر چڑھائیں وہ توبہ

صدقے کر ڈالے ایسے زن بہت

دل پر داغ ہی کی سیر کرو

ہے تمہارے لئے یہ باغ بہت

مجھ سے ملتے ہیں جب یہ کہتے ہیں

آپ کو ہو گیا دماغ بہت

غم سے پائی نجات مرقد میں

مر کے حاصل ہوا فراغ بہت

نقش پا تک ملا نہ ان کا کہیں

چھان مارا ہے کوہ و راغ بہت

کچھ تو فرمائیے جناب رنجؔ

آج ہیں آپ باغ باغ بہت