یہ عہد نو کا چلن ہے یا یہ شوق تمہارا ازلی ہے

Qamar Jahan Naseer

یہ عہد نو کا چلن ہے یا یہ شوق تمہارا ازلی ہے

تم کلینڈر تاریخوں کو

کسی اور ہی نام سے جانتے ہو

یاں جذبے رشتے فکر اور فرد ایام سے ہیں منسوب سبھی

کبھی درماں کرنا چاہا کچھ امراض کا دے کر دن کا خراج

جنگیں بھی تمہاری ہی ایجاد

اور یوم امن کا ڈھونگ بھی تم

تم وہ جو صورت قہر گرے

اس روئے زمیں کے شہروں پر

پھر ان شہروں کے نام سے دن منسوب بھی کرنے والے تم

ہاں بھول گئے اس ہستی کو

مخصوص کوئی بھی یوم نہیں ہے اس کے جشن چراغاں کو

ہو جس کی سیہ زلفوں کے اسیر اول دن سے

کیا کیا نہیں حیلے تم نے کیے

میری ہی طلب کی انگلی تھامے ایٹم بم ایجاد کیا

کبھی زیر زمیں راہ آتش ہموار کیا

کبھی دیکھا چشم فلک نے منظر جب

تم تھام کے باہیں میری تھے مسرور بہت

اک عہد حجر سے مصنوعی فطانت تک

جب بھی کوئی خوں آشام صدا ٹکرائی میرے کانوں سے

میں پیر میں گھنگھرو باندھ اٹھی

انکار کیا تم نے جب میرے جشن چراغاں کا

میں نے اک سال مکمل اپنے نام کیا

لیکن تم نے

حرف غلط کا نام دیا

چاہا کہ کر دو محو مجھے اس روئے زمیں کے صفحے سے

سال نو کی اس اجلی تابندہ فضا میں

فیصلہ اپنے ہاتھ میں لو

یا میری پرستش بند کرو

یا میرے نام اک جام کرو

چیئرز کہو

یہ سال بھی میرے نام کرو