کروں کس سے فریاد کیا ہو گیا

سید ہمایوں میرزا حقیر

کروں کس سے فریاد کیا ہو گیا

مرا یار مجھ سے جدا ہو گیا

کریں کیا کہ دل ہاتھ سے جا چکا

جو ہونا مقدر میں تھا ہو گیا

مرا جو غم ہجر میں وہ جیا

کہ زندان غم سے رہا ہو گیا

مرے سامنے غیر سے اختلاط

مروت کا بس خاتمہ ہو گیا

کہوں عشق پروانہ کیا شمع سے

وہ روشن رہی خود فنا ہو گیا

حقیرؔ آگے پیتا تھا مے خم کے خم

میں سنتا ہوں اب پارسا ہو گیا