پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے
سید ہمایوں میرزا حقیرپوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے
صبح کی ہے آج بھی رو رو کے میں نے شام سے
سابقہ ہے روز فردا اس بت خود کام سے
قبر میں سونے دے اے دل دو گھڑی آرام سے
رو رہے ہیں اب تو دشمن بھی جنازے پر کھڑے
آپ بھی گردن اٹھا کر دیکھ لیتے بام سے
آ گئی ہے یاد مجھ کو گردش چشم نگار
ساقیا نظارۂ دور مئے گلفام سے
کوئی مر جائے کہ فرقت میں رہے زندہ بگور
ان کو اپنے کام سے مطلب ہے اپنے نام سے
چھٹ کے پیشانی کی افشاں دیکھیں کس کس پر گرے
بجلیاں ناحق گراتے ہیں وہ بیٹھے بام سے
بعد مردن ہو گلی اس کی کہ دشت خار خار
واں بھی رہتے چین سے اور یاں بھی ہیں آرام سے
زہر ہو لیکن وہ مجھ کو اپنے ہاتھوں سے تو دے
یوں تو مطلب جام سے ہے اور نہ دور جام سے
عاشقی اچھی سہی انجام عشق اچھا نہیں
اے حقیرؔ اب درگزر کر اس خیال خام سے