زمین کا خوبصورت سڈول جسم

Qamar Jahan Naseer

زمین کا خوبصورت سڈول جسم

زخموں سے چور

درد سے کراہ رہا ہے

زمینی خداؤں کی سنگ دلی دیکھ کر آسمانوں پر موجود دیوتا بھی ششدر ہیں

کہ انھوں نے راز حیات چھپایا تھا

موت کے سوداگر نہیں بنے تھے

لاشوں کے ڈھیر پر اپنے خوابوں کے شیش محل نہیں تعمیر کیے تھے

زیوس نے تو صرف آگ چھپائی تھی

لیکن

مہذب دنیا کے زمینی آقا

انھوں نے زمین کو موت کے کیپسول میں تبدیل کر دیا

ہماری جنت میں

دودھ اور شہد نہیں

لاشوں کی ندیاں بہتی ہیں

یہاں زندگی نہیں موت کو دوام ہے

یہاں یزداں نہیں اہرمن کا راج ہے

پرومیتھیس

کیا اسی دن کے لیے تم نے آگ چرائی تھی

اور راز حیات فاش کرنے کی سزا کاٹی تھی

پرومیتھیس

زمین کے پھیپھڑے آکسیجن کشید کرتے کرتے تھک چکے ہیں

اس کی نبض ڈوبتی جا رہی ہے

کرۂ ارض پھر زمہریر بننے کی طرف گامزن ہے

کہیں سے تھوڑی سی آگ لا دو

ایک بار پھر زیوس کو مات دے دو