مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھا
سید ہمایوں میرزا حقیرمہندی پاؤں میں کیا لگانا تھا
یہ نہ آنے کا اک بہانا تھا
ذکر گل آپ کی کہانی تھی
حال بلبل مرا فسانہ تھا
مر کے جنت میں میرا جی نہ لگا
اس کا کوچہ بہت سہانا تھا
جس طرف میں گیا یہی دیکھا
میرا قصہ مرا فسانہ تھا
نزع کے وقت میرے پاس انہیں
دو گھڑی کے لئے تو آنا تھا
پھر کر آیا گیا نہ ایک سے بھی
کوچۂ یار کیا سہانا تھا
آدمی بھیج کر بلاتے تھے
کہئے وہ کون سا زمانہ تھا
خود میں آیا تو آپ کہتے ہیں
بے بلائے تمہیں نہ آنا تھا
شام تک تو حقیرؔ اچھے تھے
موت کاہے کو تھی بہانا تھا