گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیال
رنج حیدرآبادیگھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیال
نہ کچھ زمیں کی خبر ہے نہ آسماں کا خیال
یہ بے خودی ہے کہ جس دن سے دل لگا بیٹھے
کہاں کا ہوش کہاں کی خبر کہاں کا خیال
اڑے ہوئے ہیں رقیبوں کے ہوش پہ اب تک
جو دل میں آپ کے آیا تھا امتحاں کا خیال
عدو سے ہنستے رہے رات بھر سر محفل
کیا نہ تم نے مرے چشم خوں فشا کا خیال
کسی کو دو نہ سر بزم بے دھڑک گالی
خدا کے واسطے رکھو ذرا زباں کا خیال
قدم جو بھول کے رکھیں رہ محبت میں
تو خضر کو بھی نہ ہو عمر جاوداں کا خیال
لگا نہ خلد میں بھی دل میں کیا بیاں کروں
وہاں بھی مجھ سے نہ چھوٹا ترے مکاں کا خیال
میں اس طرف کبھی رخ بھول کر نہیں کرتا
میں کیا بتاؤں جب آتا ہے پاسباں کا خیال
خدا کے واسطے مانو مرا کہا اے رنجؔ
خدا کے واسطے چھوڑو یہ ہے کہاں کا خیال