آسماں پر نکل رہا مہتاب
V. Sudhakar Raoآسماں پر نکل رہا مہتاب
دن کے دفتر پہ لگ رہا تالا
گھونسلوں کو پرندے لوٹ رہے
زینہ زینہ اندھیرا بڑھتا ہوا
اور میں ہوں قطار میں اب تک
بجلی پانی
نہ روزگار کوئی
گھر کا راشن نہ کوئی دعوے دار
عہد در عہد
پار کرتا ہوا
وادیٔ درد سے گزرتا ہوا
بطن سے والدہ کی ہوتے ہوئے
کوکھ میں آ گیا ہوں بیٹی کی
اے خدا
میرا جنم کب ہوگا