آؤ ہم جشن منائیں کہ یہ دھرتی اپنی
Qamar Jahan Naseerآؤ ہم جشن منائیں کہ یہ دھرتی اپنی
یہ جہاں دیدہ معمر دھرتی
اس کی زلفوں کی سیاہی میں بڑھا
ایک اور تار سفید
جھریاں چہرے کی حیرانی نگاہوں میں سموئے دیکھیں
تیزرو قدموں سے بڑھتی ہوئی اک اور شکن
جیسے بچھڑی ہو کسی میلے میں
دل کی شریانوں میں سرخی کی جگہ زردی ہے
روشنی رنگ کے طوفان میں فرصت کس کو
کوئی پوچھے اس سے
دل کی رفتار ہوئی جاتی ہے دھیمی کیوں کر
اس کے سینے میں ہیں مدفون دکھوں کے انبار
اپنی ہی کوکھ سے جنمے ان زمیں زادوں کے
قہقہے کھوکھلے سن سن کے پھٹا جاتا ہے دل دھرتی کا
اور وہ سوچتی ہے
کھو گئے کیوں وہ شب و روز مرے
میری باہوں میں ہمکتے تھے وہ طفل معصوم
جن کے ہونٹوں پہ تبسم کے طلائی سکے
اور آنکھوں میں تھیں خوابوں کی روپہلی کرنیں
دل کے گوشوں میں امنگوں کی دھنک پھیلی تھی
اور اب حال یہ ہے
ان کے ہونٹوں پہ کھنکتے ہوئے سکے جعلی
خوشبوئیں تیز مگر رنگ جھوٹے
رات کے پچھلے پہر چیختے ہیں
روح سے عاری ہیں پنجر ان کے
خوف انہونی کا بے چین کیے رہتا ہے
بد نظر کوئی لگی کھا گئی خوشیاں ان کی
میرے خالق مری تکوین کے ماہر فنکار
اس نئے سال میں واپس کر دے
ان کی آنکھوں کی چمک ہیرے سی
ان کے ہونٹوں کی ہنسی موتی سی