عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تک

سید ہمایوں میرزا حقیر

عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تک

دکھ سہتا رہے آپ کا بیمار کہاں تک

آخر یہ ستم چرخ جفاکار کہاں تک

جھیلے مرض ہجر دل زار کہاں تک

ہو جائے لب بام سے اب جلوہ نمائی

بیٹھا رہوں آخر پس دیوار کہاں تک

دیکھوں جو کبھی آؤ سوئے گور غریباں

جی اٹھتے ہیں مردے دم رفتار کہاں تک

آتا نہیں اب کوئی عیادت کو بھی اے دل

بہلاتے بھلا بیٹھ کے غم خوار کہاں تک

سجدہ ہی کی خو ڈالوں کہ مقبول ہو خدمت

بیٹھا رہوں در پر ترے بے کار کہاں تک

کرنا نہ حقیرؔ آبلہ پائی کی شکایت

دیکھو تو رہ عشق ہے دشوار کہاں تک