دل پیار کے رشتوں سے مکر بھی نہیں جاتا

Vali Madni

دل پیار کے رشتوں سے مکر بھی نہیں جاتا

شاکی ہے مگر چھوڑ کے در بھی نہیں جاتا

ہم کس سے کریں شعلگیٔ مہر کا شکوہ

اے ابر گریزاں تو ٹھہر بھی نہیں جاتا

اس شہر انا میں جو فسادات نہ چھڑتے

تو پیار کا یہ شوق سفر بھی نہیں جاتا

وہ فہم و فراست کا دیا ہاتھ میں لے کر

اس دور شدد سے گزر بھی نہیں جاتا

اس ایک کی رسی کو اگر تھام کے رہتے

پھر اپنی دعاؤں کا اثر بھی نہیں جاتا

یہ زیست کے لمحے ہیں ولیؔ قیمتی ہیرے

کیوں کوئی بڑا کام تو کر بھی نہیں جاتا