ارادہ آہنی تھا یہ کہ تم کو بھول جائیں گے

Qamar Jahan Naseer

ارادہ آہنی تھا یہ کہ تم کو بھول جائیں گے

تمہارا خوبرو پیکر

کھنکتے قہقہے آواز دل کش

زیر و بم لہجے کا وہ زیرک نگاہیں

انا پرور اپولو ہو کوئی مغرور یونانی

وہ آنکھیں بے تأثر جو ہر اک جذبہ چھپا لینے کی ماہر تھیں

بہت گمبھیر خاموشی کو اوڑھے

یوں کہ جیسے کرۂ ارضی پہ کوئی دیوتا غلطی سے آ جائے

مگر میرا وظیفہ تھا

فقط راہیں تمہاری دیکھتے رہنا

تمہیں دیکھا تو یہ جانا

فقط اک شخص کا احساس کیسے دل کے صحرا میں

گل لالہ کے کھل اٹھنے کا ضامن ہے

یہ آنکھیں جگنوؤں کا دیپ آخر کیسے بنتی ہیں

شفق گلگوں کسی عارض پہ کیسے پھیل جاتی ہے

کہ دل کی دھڑکنیں کیسے صبا رفتار ہوتی ہیں

وہ ہر اک بات میں تم سے ہی میرا مشورہ لینا

یوں جیسے مملکت میں رب کعبہ کی

فقط تم ہی دوا سارے مرض کی ہو

یوں جیسے راہ گم کردہ مسافر کے سفر میں رہنمائی کو قطب تارہ کوئی ابھرے

کبھی میرے سوالوں کی حماقت پر

وہ مبہم مسکراہٹ زیر لب جیسے

شب تاریک میں بجلی کئی

پل بھر کو چھب اپنی دکھا جائے

تمہاری یہ کرم فرمائیاں معمول تھیں جن کو

محبت کے افق پر جاوداں کرنے کی خواہش اک جسارت تھی

خطا سرزد ہوئی ہم سے

ارادہ آہنی تھا یہ کہ تم کو بھول جائیں گے

مگر یہ بھول بیٹھے ہم

کہ آہن کو بھی آخر زنگ لگتا ہے