بنا کر خود کو جس نے اک بھلا انسان رکھا ہے

Vali Madni

بنا کر خود کو جس نے اک بھلا انسان رکھا ہے

سکون قلب کا اپنے لئے سامان رکھا ہے

سکوں کے ساتھ جینا تو بہت دشوار ہے لیکن

زمانہ نے پہنچنا مرگ تک آسان رکھا ہے

نہ کیوں محتاط رکھوں خود کو وقت گفتگو تم سے

تمہارے دل کو میں نے آبگینہ جان رکھا ہے

پری کیوں نیند کی اترے مری پلکوں کے آنگن میں

کہ میں نے پال کر دل میں عجب بحران رکھا ہے

در و دیوار پر ہیں گھونسلے کتنے پرندوں کے

کہوں کیسے کہ قدرت نے یہ گھر ویران رکھا ہے

عطا کر سامنا کرنے کی جرأت اے خدا دل میں

مری کشتی کی قسمت میں اگر طوفان رکھا ہے

مرے اوپر ولیؔ سب سے بڑا احسان ہے اس کا

کہ جس نے شاخ دل پر پھول سا ایمان رکھا ہے