فصیل ریگ پر اتنا بھروسہ کر لیا تم نے
Vali Madniفصیل ریگ پر اتنا بھروسہ کر لیا تم نے
چھتیں بھی ڈال دیں اور وا دریچہ کر لیا تم نے
تعجب ہے عبادت میں بھی ایسا کر لیا تم نے
نہیں دل کو جھکایا اور سجدہ کر لیا تم نے
کبھی مانا شریعت کی کبھی اس سے رہے عاجز
مگر دعویٰ کہ دل اللہ والا کر لیا تم نے
محبت پیار ہمدردی سبھی کو رکھ دیا گروی
حصول عیش کی خاطر جو چاہا کر لیا تم نے
سمیٹا زندگی بھر کالی گوری جیب کی رونق
ڈھلا جب عمر کا سورج تو توبہ کر لیا تم نے
طہارت کی تمنا ہے نہ دل میں حق پسندی ہے
مگر معصوم چہرہ اور لبادہ کر لیا تم نے
گراں مایہ امانت تھی اسے محفوظ رکھنا تھا
ولیؔ پاکیزہ تہذیبوں کا سودا کر لیا تم نے