منظر شہر ہے خوں بار ذرا دیر سے آ

V. Sudhakar Rao

منظر شہر ہے خوں بار ذرا دیر سے آ

رو رہے ہیں در و دیوار ذرا دیر سے آ

تیز ہے وقت کی رفتار خدا خیر کرے

لمحہ لمحہ ہے گراں بار ذرا دیر سے آ

میں ترے خواب کا حاصل ہوں تو مایوس نہ ہو

رات بھر رہتا ہوں بیدار ذرا دیر سے آ

شہر اخلاص میں اک آگ لگی ہے ہر سو

کچھ قیامت کے ہیں آثار ذرا دیر سے آ

جب مناظر نہ ہوں غمگین نہ چہرے ہوں اداس

تب مناؤں گا میں تیوہار ذرا دیر سے آ

لاش رکھی ہے ابھی مشق ستم کرنے کو

دیر سے آ اے عزا دار ذرا دیر سے آ