عدد ریاضی کا
Qamar Jahan Naseerعدد ریاضی کا
خوف و دہشت کا زائیدہ بن کے
خونی پنجے نکالے اپنا
لہو کا پیاسا
چہار جانب سے وار کرتا
محبتوں کو کھرچ رہا ہے
یہ کھیل کیسا کہ سارے جھگڑے
یہ ضرب و تقسیم جمع و تفریق
بپا ہوئے نفرت و محبت کے درمیاں جو
شکست انسانیت کے حصے میں آ گئی کیوں
یہ رت جگوں کا شکار آنکھیں
لبادۂ خوف میں لپٹ کر
بھٹک رہی ہیں
خیال کی پیچ دار گلیوں میں
سوچتی ہیں
یہ خواب دیکھیں
یا آگہی کا عذاب پلکوں کے نام لکھ کر
پرند خوش رنگ خواب کے سب
اڑا دیں اپنی منڈیر سے ہم