Poetry
Poet
Meter
- میرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیںخواب جو نہیں دیکھے کس قدر سنہرے ہیںBadr Shamsi
- میں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھیوہ چاندنی جو کبھی میرے ساتھ کھیلی تھیBadr Shamsi
- میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوںزندہ رہنا ہے تو چلنے کے سوا کیا مانگوںBadr Shamsi
- نادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملےہم کو ہماری راہ کے پتھر بہت ملےBadr Shamsi
- نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخصمرے وجود میں لیکن اتر گیا وہ شخصBadr Shamsi
- وہ چاندنی وہ چاند سا پیکر اتار دےپہلو میں کوئی خواب کا منظر اتار دےBadr Shamsi
- ہر لمحہ بحر وقت کی طغیانیوں میں ہوںٹھہروں کہاں کہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوںBadr Shamsi
- ہمیں سے توڑ کے رشتہ سفر پہ نکلا ہےہمارا سایہ اکیلا سفر پہ نکلا ہےBadr Shamsi
- یوں بچھڑ جاؤں گا تم سے میں نے یہ سوچا نہ تھاقربتوں میں فاصلوں کا کوئی اندازہ نہ تھاBadr Shamsi
- آپ مت کیجیے یقیں صاحبعشق میں فرصتیں نہیں صاحبNadeem Najid
- جو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کیلویں چرا لی گئی ہیں یہاں چراغوں کیNadeem Najid
- چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیںبہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیںNadeem Najid
- حسن جانان معتبر اس کولگ نہ جائے کہیں نظر اس کوNadeem Najid
- دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغدیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغNadeem Najid
- صرف سایہ ہی نہیں پاؤں میں رکھا ہوا ہےایک سورج بھی مری چھاؤں میں رکھا ہوا ہےNadeem Najid
- نئی محبت کی داستانیں رقم کریں گے تو ہم کریں گےدلوں میں بڑھتی ہوئی خلیجوں کو کم کریں گے تو ہم کریں گےNadeem Najid
- یقیں کیونکر نہ کرتے ہودرون دل دھڑکتے ہوNadeem Najid
- یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میںگفتگو بہت کی ہے آپ سے خیالوں میںNadeem Najid
- آپ کی ناف سے جڑ پاؤںتو خود کو بھی دکھوںNadeem Najid
- آپ کی یاد تہجد میں بتاتی ہے مجھےآپ کے ساتھ تعلق میں ہے درویش کی لوNadeem Najid
- اکیلے اور فرصت میںکبھی سب چھوڑ جائیں توNadeem Najid
- جس ایک چاکلیٹ کا وعدہ ہے میرے ساتھسچ جانیے تو اس کی تمنا میں یہ زباںNadeem Najid
- ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کرتم عین عشق کی تمثال میں مجھے ڈھالوNadeem Najid
- عشق تیرے لحافوں میں لپٹا ہواآئنے کے تقدس میں سمٹا ہواNadeem Najid
- ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کربہت حسین بہت ہی مہین جذبوں کوNadeem Najid
- ان دنوں اوج ثریا سے اک آنکھطشت میں پھول چراغ اور کچھ آیات کا نورNadeem Najid
- ایک آواز کی لو مجھ میں جلاتی ہے چراغاور چراغوں کے قریں وجد میں سانسوں کی دھمالNadeem Najid
- جو فقط ناف پیالے کے تصور میں ہوں گمکس طرح ناف سے جڑنے کا تقدس جانیںNadeem Najid
- قرینوں میںحسیں قدرت کے یہ پہلا قرینہ ہےNadeem Najid
- اجازت چاہیے ہم کو تمہارے خال و خد اوڑھیںتمہارے حسن کے برگد کے سائےNadeem Najid
- اک نئی جنگ کا آغاز کریںخوب لڑیںNadeem Najid
- ترے تکیے پہ سر رکھےتری ہی زلف کی خوشبوNadeem Najid
- تقاضا گو ہےکہ ہم اس کے ہاتھ کو تھامیںNadeem Najid
- ڈایری کا وہ صفحہکہ جس پہ اتاری گئی نظم میریNadeem Najid
- کبھی محبت پہ نظم ہو تومجھے بھی لکھناNadeem Najid
- یہ کائنات کے تلووں کو چاٹتا ہوا دنطلوع صبح سے لے کر دیار عصر تلکNadeem Najid
- ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والےراہ میں تیری مٹے تیری محبت والےشاہ اکبر داناپوری
- اے صنم مجھ کو کسی سے بھی سروکار نہیں بخدا تیرے سوادین و ایماں سے بھی مطلب مجھے زنہار نہیں میں تو بندہ ہوں تراشاہ اکبر داناپوری
- ترک کی جائے گی مدت کی رفاقت کیسےچھوڑ دے گی مجھے تو اے شب فرقت کیسےشاہ اکبر داناپوری
- جب یاد کیا اس نے پھر کس کی فراموشییوں آتے ہیں ہوش اکبرؔ یوں جاتی ہے بے ہوشیشاہ اکبر داناپوری
- خوں کے پیاسے ہیں وہاں ابروئے خم دار جداتیز کرتی ہے چھری یاں مژۂ یار جداشاہ اکبر داناپوری
- خیمہ ڈالے ہوئے رہرو ہے پڑا ایک سے ایککس تکلف کی ہے دنیا میں سرا ایک سے ایکشاہ اکبر داناپوری
- دنیا دیکھی زمانہ دیکھاتجھ کو سب میں یگانہ دیکھاشاہ اکبر داناپوری
- ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتادیکھ لیتا جو کوئی دیکھنے والا ہوتاشاہ اکبر داناپوری
- رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھےکدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھےشاہ اکبر داناپوری
- سرسری بھی ہے کارگر بھی ہےیہ کٹاری بھی ہے نظر بھی ہےشاہ اکبر داناپوری
- سرمہ جو زیب چشم سیہ فام ہو گیافتنہ سوار ابلق ایام ہو گیاشاہ اکبر داناپوری
- شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسادل میں گھر کر کے مری جان یہ پردا کیساشاہ اکبر داناپوری
- عاشق دعا کرے تو یہی اک دعا کرےدو دل ملیں تو پھر نہ جدا ہوں خدا کرےشاہ اکبر داناپوری
- عاشقو پاؤں نہ اکھڑے وہیں ٹھہرے رہناپردہ اٹھتا ہے رخ یار سے سنبھلے رہناشاہ اکبر داناپوری