کبھی محبت پہ نظم ہو تو
Nadeem Najidکبھی محبت پہ نظم ہو تو
مجھے بھی لکھنا
تم اپنی آنکھوں کے راستے پہ
پلک کنارے
کوئی بھی جگنو سا خواب دیکھو کتاب دیکھو
اور اس میں کچھ اجلے اجلے لوگوں کے باب دیکھو
تو جان لینا یہ میں نہیں ہوں
مجھے گزرنا ہے باب ہونے کتاب ہونے کے مرحلوں سے
تم اپنی پوروں مجھے ٹٹولو تو باب ٹھہروں
پہاڑیوں کے بلند زینوں سے چاند تکتے
جو مجھ کو سوچو تو خواب ٹھہروں
سماعتوں سے ورا جو الفاظ ہیں سبھی کو
تم اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھوں پہ گر لکھو تو کتاب ٹھہروں
محبتوں کا نصاب ٹھہروں
کبھی محبت پہ نظم ہو تو
مجھے بھی لکھنا
کبھی محبت پہ نظم ہو تو
مجھے بھی لکھنا