اجازت چاہیے ہم کو تمہارے خال و خد اوڑھیں

Nadeem Najid

اجازت چاہیے ہم کو تمہارے خال و خد اوڑھیں

تمہارے حسن کے برگد کے سائے

دو گھڑی رک کر

حیات جاوداں پائیں

اور ایسے میں کہیں خود پر

تمہیں بھی مہرباں پائیں

اجازت چاہیے ہم کو

تمہاری زلف سے اپنی نظر کی ڈوریاں باندھیں

وہی دیکھیں جو تم دیکھو

اور ایسے میں ترے جھمکوں سے کچھ سرگوشیاں کر لیں

تری چنری کو چھو لیں اور ستاروں سا چمک اٹھیں

فلک پہ دور تک تیرے ہی قدموں کے نشاں ڈھونڈیں

ہمیں منزل سے کیا لینا ہمیں رستے سے کیا لینا

ہیں تیرے عشق کے بندے

ہمیں اپنا بنا لینا

ہمیں اپنا بنا لینا