یقیں کیونکر نہ کرتے ہو

Nadeem Najid

یقیں کیونکر نہ کرتے ہو

درون دل دھڑکتے ہو

ہمارا مسئلہ سمجھو

محبت کو سمجھتے ہو

نظام کن کی حیرت کو

فقط حیرت سمجھتے ہو

ہمیں نے خون تھوکا ہے

ہمیں پہ آہ بھرتے ہو

سنا آنکھوں کی ویرانی

کو تم سپنوں سے بھرتے ہو

ہماری راہ سیدھی ہے

تبھی تو راہ تکتے ہو

دل مشکیزۂ جاں میں

مہکتے تھے مہکتے ہو

کسی پہ ہم بھی مرتے ہیں

کسی پہ تم بھی مرتے ہو