ترے تکیے پہ سر رکھے
Nadeem Najidترے تکیے پہ سر رکھے
تری ہی زلف کی خوشبو
کچھ ایسے لب ہلاتی ہے
محبت گنگناتی ہے
جو تم نے وصل کی شب سلوٹیں بستر پہ بوئی تھیں
اب ان پر پھول آئے ہیں
اور ان سے پھوٹتی خوشبو سے
آشاؤں کی چادر بھیگ جاتی ہے
محبت گنگناتی ہے
تری پاپوش کے پہلو سے جو رستہ نکلتا ہے
اسی پہ دل ٹہلتا ہے
تعلق کی گلی کے موڑ پر بیٹھے
ترے نقش قدم سے منزلوں کی باس آتی ہے
محبت گنگناتی ہے