دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ

Nadeem Najid

دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ

دیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغ

عام سی شب کو شب خاص بنا دیتے ہیں

اک تری یاد میں جلتی ہوئی آنکھوں کے چراغ

شہر یاراں میں کہیں کوئی شناسا ہی نہیں

نہ وہ برگد نہ قبیلہ نہ رواجوں کے چراغ

آج بھی یار برستی ہیں کسی کی آنکھیں

آج بھی کوئی جلاتا ہے مرادوں کے چراغ

خوش نصیبی سے ہم اک طاق میں روشن ہیں یہاں

کم ہی ملتے ہیں وگرنہ یہ مزاجوں کے چراغ