وہ چاندنی وہ چاند سا پیکر اتار دے
Badr Shamsiوہ چاندنی وہ چاند سا پیکر اتار دے
پہلو میں کوئی خواب کا منظر اتار دے
محفوظ اب نہیں ہیں مرے دل کی سرحدیں
کہہ دو کسی غنیم سے لشکر اتار دے
کب سے شریک ہوں میں جہاد حیات میں
بہر نجات کوئی مرا سر اتار دے
ٹوٹے ترا خیال تو بستر کی ہر شکن
آنکھوں میں جیسے نیند کے نشتر اتار دے
دل سے لگائے کون مرا غم مری خوشی
ہر شخص دل کا بوجھ سمجھ کر اتار دے
جنبش جب اس کے لب کو ہوئی تو پتہ چلا
چٹکے کلی تو روح میں نشتر اتار دے
کب سے اٹھائے پھرتا ہوں تنہائیوں کا بوجھ
دل سے کوئی یہ درد کا پتھر اتار دے
اے بدرؔ اشک غم کے علاوہ کوئی تو ہو
تیرہ شبی میں جو مہ و اختر اتار دے