یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں
Nadeem Najidیہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں
گفتگو بہت کی ہے آپ سے خیالوں میں
آپ کے حوالے سے مجھ کو یاد پڑتا ہے
میں کہاں کہاں پہ تھا آپ کے حوالوں میں
آپ گر چلے آؤ تو سبھی کو دکھلاؤں
ہو بھلا بیاں کیسے زندگی مثالوں میں
خواب کے جزیروں سے روز پھول چنتا ہوں
روز بانٹ دیتا ہوں آنے جانے والوں میں
رنگ زندگانی کے کروٹیں بدلتے ہیں
آپ ہی کے ہونٹوں پر آپ ہی کے گالوں میں