میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوں

Badr Shamsi

میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوں

زندہ رہنا ہے تو چلنے کے سوا کیا مانگوں

تحفۂ چاک گریباں کے سوا کیا مانگوں

تجھ سے اے فصل جنوں تو ہی بتا کیا مانگوں

میں نے چاہا ہے تجھے اپنے ارادوں کی طرح

اور میں اپنے ارادوں کا صلہ کیا مانگوں

پھول میں نور نہیں چاند میں خوشبو ہی نہیں

ان نظاروں سے ترا حسن ادا کیا مانگوں

کتنے آنسو ہیں مرے غم کو سجانے کے لئے

آج کی رات ستاروں سے ضیا کیا مانگوں

اپنے ہی خون میں ڈوبا ہوا پیکر ہوں میں

میں کسی اور سے رنگین قبا کیا مانگوں

زخم احساس لہو دے تو بہار آتی ہے

غنچۂ دل کے لئے موج صبا کیا مانگوں

میری قسمت میں تو شاید کوئی پتھر بھی نہیں

وحشت دل کا کسی سے میں صلہ کیا مانگوں

دل کا ہر داغ تمنا ہے چراغ منزل

بدرؔ میں چاند ستاروں سے ضیا کیا مانگوں