Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پرتجلی نور خداوند کی نظر آوےمرزا جواں بخت جہاں دار
  2. جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیادل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیامرزا جواں بخت جہاں دار
  3. جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارےنہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارےمرزا جواں بخت جہاں دار
  4. جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیادیکھیو کیا آج ہم کو شوخ بالا دے گیامرزا جواں بخت جہاں دار
  5. آپ اپنی بے وفائی دیکھیےہم سے اور ایسی برائی دیکھیےوزیر علی صبا لکھنؤی
  6. آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگاہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگاوزیر علی صبا لکھنؤی
  7. آئی اے گلعذار کیا کہناخوب آئی بہار کیا کہناوزیر علی صبا لکھنؤی
  8. اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریاسیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریاوزیر علی صبا لکھنؤی
  9. ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوارندہ گیا پس گیا مٹی ہوا پامال ہواوزیر علی صبا لکھنؤی
  10. اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیااپنی آغوش میں اڑ کر وہ پری زاد آیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  11. اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کلصورت ناقوس ہیں گبر و مسلماں آج کلوزیر علی صبا لکھنؤی
  12. باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظصورت برگ خزانی ہے زبان واعظوزیر علی صبا لکھنؤی
  13. بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھریصبح سو بار خریدی گئی سو بار پھریوزیر علی صبا لکھنؤی
  14. بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیااک تیر تھا کہ صاف جگر سے نکل گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  15. بندہ اب ناصبور ہوتا ہےعفو ہووے قصور ہوتا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
  16. تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہوکہیں گل اور کہیں خار نظر آتے ہووزیر علی صبا لکھنؤی
  17. جو عدوئے باغ ہو برباد ہوکوئی ہو گلچیں ہو یا صیاد ہووزیر علی صبا لکھنؤی
  18. داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیادامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  19. دل پر داغ باغ کس کا ہےدیدۂ تر ایاغ کس کا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
  20. دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنجپیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنجوزیر علی صبا لکھنؤی
  21. دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤںپھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤںوزیر علی صبا لکھنؤی
  22. رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میںپھول پیتے ہیں ترے مے خوار قیصر باغ میںوزیر علی صبا لکھنؤی
  23. عدوئے جاں بت بے باک نکلابڑا قاتل بڑا سفاک نکلاوزیر علی صبا لکھنؤی
  24. عشق کا اختتام کرتے ہیںدل کا قصہ تمام کرتے ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
  25. فکر رنج و راحت کیسیدوزخ کیسا جنت کیسیوزیر علی صبا لکھنؤی
  26. قبر پر باد فنا آئیے گابے محل پاؤں نہ پھیلائیے گاوزیر علی صبا لکھنؤی
  27. کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیںتوبہ ہے رو سیاہ کیا ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
  28. محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیںپلے پہ وہ بت ہوگا میزاں کسے کہتے ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
  29. واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیاجام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  30. بے تابئ دل نے زار پا کردے دے پٹکا اٹھا اٹھا کروزیر علی صبا لکھنؤی
  31. کوئی صورت سے گر صفا ہوآئنۂ دل خدا‌ نما ہووزیر علی صبا لکھنؤی
  32. نفس نمرود ہے کیا ہونا ہےشرک موجود ہے کیا ہونا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
  33. آخر شب جو فضاؤں میں چھڑا ہوتا ہےوہ بھی کیا نغمۂ بے ساز و صدا ہوتا ہےBadr Shamsi
  34. اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہےیہ اجنبی تو ہمیں آشنا سا لگتا ہےBadr Shamsi
  35. اب دل میں وہ رعنائیٔ احساس نہیں ہےکس پھول میں ورنہ تری بو باس نہیں ہےBadr Shamsi
  36. بیتے لمحوں کی خوشبوئیں زخموں کی سوغات ملیتنہائی کے سونے پن میں یادوں کی بارات ملیBadr Shamsi
  37. پھر اس نگاہ کا نشتر مری تلاش میں ہےسکون دل کا پیمبر مری تلاش میں ہےBadr Shamsi
  38. پیمان وفا توڑ کے جانے کے لئے آآ دل کی لگی اور بڑھانے کے لئے آBadr Shamsi
  39. تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیںکچھ اشک سر دیدۂ نم کھوئے ہوئے ہیںBadr Shamsi
  40. تم اپنے ساتھ مری چشم تر بھی لے جاؤسفر طویل ہے اک ہم سفر بھی لے جاؤBadr Shamsi
  41. جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھاتری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھاBadr Shamsi
  42. جو چاند کو آغوش میں لینے پہ اڑا تھاہر چند وہ بچہ تھا مگر دل کا بڑا تھاBadr Shamsi
  43. چپکے چپکے کون یہ دل پر کرم فرمائے ہےدرد سے تسکین ملتی ہے سکوں تڑپائے ہےBadr Shamsi
  44. دل جن کو پوجتا تھا وہ غم جاگتے رہےکل رات بت کدے میں صنم جاگتے رہےBadr Shamsi
  45. دل کے ہر زخم کو ہونٹوں پہ سجایا جائےکیا ضروری ہے کہ حال اپنا سنایا جائےBadr Shamsi
  46. سکون دل کی طلب میں جو بے قرار نہیںوہ اپنے درد محبت سے شرمسار نہیںBadr Shamsi
  47. شمع جلے ہے محفل محفل خاک بسر پروانہ ہےاس دنیا میں درد پرایا سچ ہے کس نے جانا ہےBadr Shamsi
  48. کتنا عجیب شہر تمنا دکھائی دےہے اتنی روشنی کہ اندھیرا دکھائی دےBadr Shamsi
  49. کرم ہوا بھی تو کتنے تکلفات کے بعدعطا ہوا غم جاناں غم حیات کے بعدBadr Shamsi
  50. گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیںاس پیڑ میں تو ایک بھی پتا ہرا نہیںBadr Shamsi