میرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیں
Badr Shamsiمیرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیں
خواب جو نہیں دیکھے کس قدر سنہرے ہیں
مدتیں ہوئیں ان کو ایک بار دیکھا تھا
آج تک نگاہوں پر آنسوؤں کے پہرے ہیں
کب کسی کی سنتے ہیں ان کو دیکھنے والے
جن کی آنکھ روشن ہے ان کے کان بہرے ہیں
کم نہیں تغافل سے التفات بھی ان کا
داغ وہ بھی تازہ ہیں زخم یہ بھی گہرے ہیں
کیا خبر زمانے کو ہم سے کتنے دیوانے
زندگی کے دامن پر اشک بن کے ٹھہرے ہیں
دل میں کیا ہے باتوں سے کچھ پتہ نہیں چلتا
آج کل زمانے میں دوست کتنے گہرے ہیں
یادگار ماضی ہیں بدرؔ اپنے داغ دل
قافلے بہاروں کے اس جگہ بھی ٹھہرے ہیں