ان دنوں اوج ثریا سے اک آنکھ

Nadeem Najid

ان دنوں اوج ثریا سے اک آنکھ

طشت میں پھول چراغ اور کچھ آیات کا نور

بخت کی رحل میں رکھتی ہے

دعا دیتی ہے

آسماں اور زمیں سب سے جدا دیتی ہے

یعنی مجھ کو مرے ہونے کا پتہ دیتی ہے

طشت میں رکھی ہوئی عشق کی آیات سے نور

یوں ٹپکتا ہے مری آنکھ کے گل دانوں میں

جیسے بھگوان اتر آیا ہو انسانوں میں

جبر سے خون سے مہکی ہوئی دھرتی پہ ندیمؔ

طشت میں پھول سلیقے سے سجا دیتا ہے

اور ہمیں امن سے جینے کی دعا دیتا ہے

آج بھی اوج ثریا کا پتہ دیتا ہے

آج بھی اوج ثریا کا پتہ دیتا ہے